نئی دہلی، 22 ؍اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ میں مہاراشٹر میں بیف بین کے خلاف تین اور درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔دائر درخواستوں میں ریاست میں16سال سے زیادہ عمر کے بیلوں کو ذبح کرنے کی اجازت دئیے جانے کی اپیل کی گئی ہے۔عدالت میں ایک درخواست کسان تنظیم، ایک درخواست جمعیتہ القریش، مہاراشٹر اور ایک درخواست آل انڈیا جمیعتہ القریش، نئی دہلی کی جانب سے دائرکی گئی ہے۔درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ گؤ کشی روکنے کے نام پر صرف سیاست ہو رہی ہے۔دراصل حکومت اس کے نام پر ووٹ بینک کی سیاست کرنا چاہتی ہے۔قصائی کے پیشہ سے وابستہ تنظیموں نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ بھی گائے اورگائے کے بچھڑے کا احترام کرتے ہیں۔حکومت کو اس میں پوری طرح تعاون کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ بیل جو 16سال کی عمر کی حد پارکر چکا ہے، اس کو ذبح کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے ۔تنظیموں نے اپنی درخواست میں دلیل دی ہے کہ 16؍سال کی عمر کے بعد بیل کسانوں کے کسی کام کا نہیں رہتا، بے کار ہو جاتا ہے۔کسانوں کے لیے ایسا جانوراے ٹی ایم کارڈ کی طرح ہوتا ہے۔اسے بیچ کر کسان کو نقد رقم مل جاتی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے 18لاکھ لوگ اس پابندی سے متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے 16سال سے اوپر کے بیل کو ذبح کرنے کی اجازت ہونی چاہیے ۔سپریم کورٹ میں پہلے ہی بیف بین کے خلاف ایک درخواست تحسین پونہ وا لا کی طرف سے دائر کی جا چکی ہے۔ایک اور درخواست سینئروکیل اندرا جے سنگھ سے وابستہ تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔